بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

نماز سے متعلق ہماری بعض کوتاہیاں اور ان کا علاج

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے بعد سب سے پہلا اور اہم فریضہ نماز ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر مسلمان پر عائد کیا گیا ہے، خواہ مرد ہو یا عورت ، غریب ہو یا مالدار، صحت مند ہو یابیمار، طاقت ور ہو یا کمزور، بوڑھا ہو یا نوجوان، مسافر ہو یا مقیم، بادشاہ ہو یا غلام، حالت امن ہو یا حالت خوف، خوشی ہو یا غم، گرمی ہو یا سردی، حتی کہ جہاد وقتال کے عین موقعہ پر میدان جنگ میں بھی یہ فرض معاف نہیں ہوتاہے۔ قرآن وحدیث میں اس اہم اور بنیادی فریضہ کو کثرت سے بیان کیا گیا ہے، مگر بڑے افسوس اور فکر کی بات ہے کہ نماز سے متعلق متعدد کوتاہیاں ہمارے اندر موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کی ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
نماز کی ادائیگی میں کوتاہی:
بعض حضرات جو نماز نہیں پڑھتے،سمجھانے پر کہتے ہیں کہ جمعہ سے یا رمضان سے یا سال کی ابتداء سے نماز کا اہتمام کریں گے۔ حالانکہ کسی کو نہیں معلوم کہ کس وقت اس دار فانی (دنیا) کو الوداع کہنا پڑے۔ اگر ایسے وقت میں ملک الموت (موت کا فرشتہ) ہماری روح نکالنے آیا کہ ہمارا مولا ہم سے نمازوں کا اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے ناراض ہے تو پھر ہمارے لئے انتہائی خسارہ اور نقصان ہے۔ اور موت کب آجائے، سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا، نہ کسی کو یہ معلوم کہ کس زمین میں مرے گا۔ (سورہ لقمان، آیت نمبر ۳۴) اور ہر گروہ کے لئے ایک میعاد معین ہے سو جس وقت ان کی میعاد معین آجائے گی، اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ (سورہ الاعراف، آیت نمبر ۳۴)
لہٰذا ان حضرات کو چاہئے کہ کسی دن یا کسی وقت پر اپنے ارادہ کو ہرگز معلق نہ کریں بلکہ سچے دل سے توبہ کرکے آج سے بلکہ ابھی سے نمازوں کا خاص اہتمام کریں کیونکہ نماز  دین اسلام کا عظیم رکن ہے اور قیامت کے دن سب سے پہلے اسی نماز کا حساب لیا جائے گا۔
یاد رکھیں کہ جو شخص نماز میں کوتاہی کرتاہے، وہ یقیناًدین کے دوسرے کاموں میں بھی سستی کرنے والا ہوگا۔ اور جس نے وقت پر خشوع وخضوع کے ساتھ نماز کا اہتمام کرلیا، وہ یقیناًپورے دین کی حفاظت کرنے والا ہوگا جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں کو حکم جاری فرمایا تھا کہ میرے نزدیک تمہارے امور میں سب سے زیادہ اہمیت نماز کی ہے، جس نے نماز کی پابندی کرکے اس کی حفاظت کی، اس نے پورے دین کی حفاظت کی اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ نماز کے علاوہ دین کے دیگر ارکان کو زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔
نماز پر دنیاوی ضرورتوں کو ترجیح دینا:
بعض حضرات سے جب نماز کے اہتمام کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ والدین کی خدمت، بچوں کی تربیت اور ان کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرنا بھی تو ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ امور بھی ضروری ہیں مگر ان اعمال کے لئے نماز کو ترک کرنا یا نماز کی اہمیت کو کم سمجھنا کونسی عقلمندی ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام نہ صرف فرض نماز کی پابندی فرماتے بلکہ سنن ونوافل کا بھی خاص اہتمام فرماتے اور اپنے گھر والوں کے حقوق کما حقہ ادا کرتے۔ اور انہیں حضرات کی زندگیاں ہمارے لئے نمونہ ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے باتیں کرتے تھے اور ہم حضور سے باتیں کرتے تھے لیکن جب نماز کا وقت آجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہوجاتے گویا ہم کو پہچانتے ہی نہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف مشغول ہوجاتے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری ۔۔۔ (بخاری ومسلم)
یاد رکھیں کہ نماز میں کوتاہی کرکے گھر والوں کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنا دین نہیں بلکہ دین اسلام کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کردیں۔ (سورہ المنافقون آیت ۹) لہذا دنیاوی ضرورتوں کو نماز پر فوقیت نہ دیں بلکہ نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کریں۔
بیماری کے وقت نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی:
بعض حضرات بیماری میں نماز کو بالکلیہ ترک کردیتے ہیں حتی کہ نماز پڑھنے والا طبقہ بھی نماز کا اہتمام نہیں کرتا حالانکہ صحت وتندرستی کی طرح بیماری کی حالت میں بھی نماز کو ان کے اوقات میں پڑھنا ضروری ہے، البتہ شرعیت اسلامیہ نے اتنی اجازت دی ہے کہ شدید بیماری کی وجہ سے مسجد جانا مشکل ہے تو گھر میں ہی نماز ادا کرلیں، کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر نماز پڑھیں۔ بیٹھ کر بھی نماز پڑھنا مشکل ہے تو لیٹ کر حتی کہ اشارہ سے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں تو اس کو ضرور ادا کریں۔حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بواسیر کا مریض تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھڑے ہوکر نماز پڑھ سکو تو کھڑے ہوکر پڑھو، بیٹھ کر پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو، لیٹ کر پڑھ سکو تو لیٹ کر پڑھو ۔ (صحیح بخاری)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام سخت بیماری کی حالت میں بھی جماعت سے نماز ادا کرنے کا اہتمام فرماتے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم تو اپنا حال یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص کھلّم کھلّا منافق ہوتا وہ تو جماعت سے رہ جاتا یا کوئی سخت بیمار‘ ورنہ جو شخص دو آدمیوں کے سہارے سے گھسٹتا ہوا مسجد جا سکتا تھا وہ بھی صف میں کھڑا کردیا جاتا تھا۔لہٰذا صحت ہو یا بیماری، خوشی ہو یا غم، تکلیف ہو یا راحت، سردی ہو یا گرمی سب برداشت کرکے نمازوں کا اہتمام کریں۔
سفر میں نماز کی ادائیگی میں کوتاہی:
سفر میں بھی نماز کا اہتمام کرنا ضروری ہے، مگر شرم یا لاپرواہی کی وجہ سے نماز پڑھنے والے بھی سفر میں نماز کا اہتمام نہیں کرتے حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام سفر میں حتی کہ دشمنوں سے جنگ کے عین موقع پر بھی جماعت کے ساتھ نماز ادا فرماتے۔ لہٰذا سفر میں بھی نماز کی پابندی کریں، پانی مہیا نہیں تو تیمم کرکے نماز ادا کریں، قبلہ کا رخ معلوم نہیں اور کوئی شخص بتانے والا بھی نہیں تو غوروفکر کے بعد قبلہ کا تعین کرکے اسی طرف نماز پڑھیں، کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی گنجائش نہ ہو تو بیٹھ کر ہی ادا کریں۔
وضاحت: اگر آپ کا سفر ۴۸ میل سے زیادہ کا ہے تو شہر کی حدود سے باہر جاتے ہی آپ شرعی مسافر ہوجائیں گے اور ظہر، عصر اور عشاء کے وقت  بجائے چار رکعت کے دو دو رکعت فرض پڑھیں۔ البتہ اگر کسی مقیم امام کے پیچھے نماز باجماعت ادا کریں تو پوری نماز ہی پڑھیں۔ ہاں اگر امام بھی مسافر ہو تو چار رکعت کے بجائے دو ہی رکعت ادا کریں۔ سنتوں اور نفل کا حکم یہ ہے کہ اگر اطمینان کا وقت ہے تو پوری پوری پڑھیں اور اگر جلدی ہو، یا تھکن ہے یا کوئی اور دشواری ہے تو بالکل نہ پڑھیں کوئی گناہ نہیں، البتہ وتر اور فجر کی سنتیں نہ چھوڑیں۔
معمولی عذر کی وجہ سے جماعت کی نماز کو چھوڑنا:
بعض حضرات یہ سمجھ کرکہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا صرف سنت مؤکدہ ہے،معمولی عذرکی وجہ سے فرض نماز مسجد میں جاکر جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرتے بلکہ دوکان یا گھر میں اکیلے ہی پڑھ لیتے ہیں، حالانکہ علماء کرام نے فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کو جو سنت مؤکدہ اشد التاکید کہا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ معمولی معمولی عذر کی وجہ سے فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے میں کوتاہی کی جائے کیونکہ فرض نماز کی مشروعیت تو جماعت ہی کے ساتھ ادا کرنا ہے، صرف شرعی عذر کی وجہ سے جماعت کی نماز کا ترک کرنا جائز ہے۔
کھیل کود کی وجہ سے نماز میں کوتاہی:
کھیلنا صحت کے لئے مفید ہے جس کی شریعت نے بھی اجازت دی ہے مگر کھیلنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اذان کے وقت یا اس سے کچھ قبل کھیل بند کردیں تاکہ وضو وغیرہ سے فارغ ہوکر نماز جماعت کے ساتھ ادا کرسکیں۔ شریعت اسلامیہ نے ایسے کھیل کی بالکل اجازت نہیں دی ہے جو نماز کے ضائع ہونے حتی کہ جماعت کی نماز کے فوت ہونے کا بھی سبب بنے۔
خواتین کا وقت پر اور اطمینان سے نماز ادا نہ کرنا:
بعض خواتین ‘ گھر کے مشاغل کی وجہ سے نماز کو مستحب وقت پر ادا کرنے میں کوتاہی کرتی ہیں۔ حالانکہ اگر تھوڑی سی بھی فکر کرلیں تو نماز کو مستحب وقت پر ادا کرنا آسان ہوگا۔اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل نماز کو وقت پر ادا کرنا ہے۔ نیز نماز کو شرعی عذر کے بغیر وقت پر ادا نہ کرنا نماز کو ضائع کرنا ہے۔لہٰذا معمولی عذر کی وجہ سے نماز کو ادا کرنے میں تاخیر نہ کریں بلکہ اذان کے بعد فوراً ہی گھر میں نماز پڑھ لیں۔دوسری کوتاہی‘ جو خواتین میں عموماً پائی جاتی ہے وہ نمازوں کو اطمینان، سکون اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا نہ کرنا ہے، حالانکہ اصل نماز خشوع وخضوع والی نماز ہے۔ لہٰذا نماز کو وقت پر اطمینان وسکون اور خشوع خضوع کے ساتھ ادا کریں۔
ملازمین کو نماز کی ادائیگی کا وقت مہیا نہ کرنا:
جن حضرات کے ماتحت لوگ کام کرتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذات سے نماز کا اہتمام کرکے اپنے ملازمین کی بھی نماز کی فکر کریں، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ہر شخص سے اس کے ماتحت لوگوں کے بارے میں سوال ہوگا۔سرمایہ کار‘ نماز کا اہتمام کرنے والے ملازمین کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور انہیں نماز پڑھنے کی سہولت دیں۔ اور نماز میں کوتاہی کرنے والوں کو سمجھاتے رہیں تاکہ وہ بھی نمازوں کی پابندی کرکے دونوں جہاں کی کامیابی حاصل کرنے والے بن جائیں۔
اولاد کی نمازوں کی نگرانی نہ کرنا:
ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذات سے نمازوں کا اہتمام کرکے اپنی اولاد کی بھی نمازوں کی نگرانی کرے۔ جس طرح اولاد کی دنیاوی تعلیم اور ان کی دیگر ضرورتوں کو پورا کرنے کی دن رات فکر کی جاتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ان کی آخرت کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ کس طرح جہنم کی آگ سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہونے والے بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔ (سورہ التحریم آیت ۶)
اسی طرح فرمان الہٰی ہے: (اے محمد!) اپنے گھر کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ۔ (سورہ طہ، آیت ۱۳۲) اس خطاب میں ساری امت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہے، یعنی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پابندی کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا: اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد میں سے بھی (مجھے اور میری اولاد کو نماز کا پابند بنادے) (سورہ ابراہیم، آیت ۴۰) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ساتھ اپنی اولاد کے لئے بھی نماز کی پابندی کرنے کی دعا مانگی، جس سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی نمازکی فکر کرنی چاہئے۔حکیم لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت: اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا۔ (سورہ لقمان، آیت ۱۷) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم سب ذمہ دار ہو اور تم سب سے تمہارے ماتحت لوگوں کے سلسلہ میں بازپرس ہوگی ۔ مرد اپنے اہل وعیال کا ذمہ دار ہے۔ اس سے اس کے ماتحت لوگوں کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ (بخاری ومسلم) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم کرو۔ دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر انہیں مارو۔ (ابو داود)
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاکے گھر تھا۔ شام میں حضوراکرمصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا کہ لڑکے نے نماز پڑھ لی، تو لوگوں نے کہا ہاں ۔ (ابوداود) غرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کی بھی نماز کی نگرانی فرمایا کرتے تھے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں نمازوں کا اہتمام کرنے والا بنائے۔ آمین، ثم آمین۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی ، ریاض (www.najeebqasmi.com)