بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

ریاض سے جدہ جاتے ہوئےعمرہ کرنے والوں کے لئے ضروری واہم ہدایات

اگر کوئی شخص ریاض سے جدہ کسی کام سے یا کسی شخص سے ملاقات کے لئے جا رہا ہے اور ساتھ میں یہ بھی نیت ہے کہ کام یا ملاقات سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے جانا ہے تو اس شخص کے لئے جدہ سے احرام باندھنا کافی نہیں ہوگا۔ بلکہ اس شخص کے لئے تین شکلیں ہیں، کسی ایک کو اختیار کرے :
۱۔ ریاض سے جدہ جاتے ہوئے میقات (یعنی السیل الکبیر) میں احرام باندھ کر نیت کرکے تلبیہ پڑھے۔ جدہ میں کام سے فارغ ہوکر عمرہ کی ادا ئیگی کے لئے مکہ مکرمہ چلا جائے، لیکن اِس شکل میں اس شخص کو جدہ میں احرام ہی کی حالت میں رہنا ہوگا۔ یاد رکھو ! احرام باندھنے کے بعد فوراً ہی عمرہ کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ جب تک چاہو احرام کی حالت میں رہ سکتے ہو مگر احرام کی پابندیاں لازم رہیں گی ، مثلاً سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتے، خوشبو استعمال نہیں کرسکتے وغیرہ۔
۲۔ ریاض سے بغیر احرام باندھے جدہ چلا جائے۔ کام سے فراغت کے بعد طائف کے قریب السیل الکبیر یعنی میقات جاکر احرام باندھے اور پھر مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کرے۔ اِس شخص کے لئے تنعیم یعنی مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنا کافی نہیں ہوگا۔ اسی طرح شمیسیہ سے بھی احرام باندھنا کافی نہیں ہوگا، شمیسیہ جدہ مکہ شاہراہ پر واقع ایک علاقہ کا نام ہے جہاں سے منطقہ حرم شروع ہوتا ہے اورآجکل وہاں حدود حرم کی علامت کے طور پر رحل بنی ہوئی ہے۔
۳۔ ریاض سے میقات (یعنی السیل الکبیر) میں احرام باندھتے ہوئے مکہ مکرمہ چلا جائے ، سب سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کرے، پھر جدہ جاکر اپنے کام میں مشغول ہوجائے۔
وضاحت: اس موضوع پر میں نے جتنی بھی کتابیں پڑھی ہیں یا جن علماء سے بھی رجوع کیاہے خواہ وہ عرب ہوں یا غیر عرب۔ سب کی ایک ہی رائے معلوم ہوئی کہ عمرہ کی نیت کے ساتھ ریاض سے روانہ ہونے والا شخص جدہ سے احرام نہیں باندھ سکتا ہے۔
نوٹ:
۱۔ ریاض سے جدہ جانے والا اگر کوئی شخص جدہ میں کام میں مشغولیت یا کسی اور وجہ سے میقات (مثلاً السیل الکبیر) سے احرام باندھنے کی دشواری برداشت نہیں کرسکتا ہے، تو برائے مہربانی اِس سفر میں عمرہ نہ کرے۔
۲۔ اگر کسی شخص نے ایسا کرلیا ۔ یعنی ریاض سے جدہ روانگی کے وقت ‘ عمرہ کی ادائیگی کا بھی ارادہ تھا اور پھر جدہ میں کام سے فراغت کے بعد جدہ ہی سے عمرہ کا احرام باندھ لیا تو اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ عمرہ کی ادائیگی سے پہلے میقات یعنی السیل الکبیر جا کر دوبارہ نیت کرکے تلبیہ پڑھے اور پھر مکہ مکرمہ پہونچ کر عمرہ کی ادائیگی کرے۔ ورنہ ( ریاض سے روانگی کے وقت عمرہ کی نیت تھی، پھر جدہ سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کرلیا تو) اُس پر ایک دم لازم ہوجائے گا، البتہ یہ دم زندگی میں کسی بھی وقت دیا جاسکتا ہے۔
۳۔ اگر کوئی شخص ریاض سے جدہ کسی کام سے جارہا ہے اور عمرہ کی ادائیگی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جدہ میں جاکر اچانک عمرہ کی ادائیگی کا ارادہ بن گیا تو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے جدہ سے عمرہ کا احرام باندھنا جائز ہے۔
۴۔ اگر ریاض سے کسی کام کے لئے جدہ روانگی کے وقت ‘ عمرہ کی ادائیگی کی نیت تو ہے لیکن سفر کا پروگرام واضح نہ ہونے کی وجہ سے عمرہ کی ادائیگی غیر یقینی ہے، یعنی عمرہ کرے یا نہ کرے۔ تو غالب امکان کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ یعنی ریاض سے روانگی کے وقت اگر زیادہ امکان عمرہ کرنے کا ہے ، تو پھر جدہ سے احرام باندھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور اگر بہت کم امکان عمرہ کی ادائیگی کا تھا، مگر جدہ جاکر عمرہ کا مکمل ارادہ ہوگیا ، تو پھر جدہ سے احرام باندھنے کی گنجائش ہے۔
۵۔ صرف ارادہ کرنے یا احرام کے کپڑے پہننے سے عمرہ کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، بلکہ نیت کرکے تلبیہ پڑھنے کے بعد عمرہ کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے۔ لہذا اگر کسی شخص کا ریاض سے روانگی کے وقت عمرہ کا ارادہ تھا مگر تلبیہ پڑھنے سے پہلے ہی عمرہ کی ادائیگی کا ارادہ ختم ہوگیا تو کوئی حرج نہیں۔ عمرہ کی ادائیگی اس پر لازم نہیں۔ اور کسی طرح کا کوئی صدقہ یا دم لازم نہیں۔
۶۔ جو حکم ریاض شہر میں رہنے والے کا بیان کیا گیا ہے، وہی حکم میقات کے باہر رہنے والے ہر شخص کے لئے ہے خواہ وہ کسی بھی شہر اور کسی بھی ملک میں رہ رہا ہو مثلاً دمام، قطر، قاہرہ وغیرہ۔ یعنی میقات کے باہر رہنے والایہ شخص اگر اپنے علاقے سے عمرہ کی نیت کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہورہا ہے خواہ وہ کسی بھی شہر سے گزرے تو اس کے لئے پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات یا اس کے محاذی احرام باندھنا ضروری ہے۔ ان پانچ میقاتوں کا بیان تفصیل سے آرہا ہے۔
****************
اس موقع پر میقات (یعنی وہ مقامات جہاں سے حج یا عمرہ کرنے والے حضرات احرام باندھتے ہیں) کی تھوڑی تفصیل لکھنا مناسب سمجھتا ہوں۔ میقات کے اعتبار سے دنیا کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔مضمون کے آخر میں میقاتو ں کا نقشہ بھی موجود ہے۔
پہلی قسم : آفاق :
*
اہل مدینہ اور اس کے راستے سے آنے والوں کے لئے ذوالحلیفہ(نیانام بئرعلی) میقات ہے۔ مکہ مکرمہ سے اس کی مسافت تقریباً ۴۲۰ کیلومیٹرہے۔
*
اہل شام اور اس کے راستے سے آنے والوں کے لئے (مثلاً مصر، لیبیا، الجزائر، مراکش وغیرہ ) جحفہ میقات ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے ۱۸۶کیلومیٹر دور ہے۔
*
اہلِ نجد اور اس کے راستے سے آنے والوں کے لئے (مثلاً بحرین، قطر، دمام، ریاض وغیرہ) قرن المنازل میقات ہے، اس کو آجکل (السیل الکبیر) کہا جاتا ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے کوئی ۷۸ کیلومیٹر پر واقع ہے۔
*
اہل یمن اور اس کے راستے سے آنے والوں کے لئے(مثلاً ہندوستان، پاکستان وغیرہ) ےَلَمْلَم میقات ہے۔ مکہ مکرمہ سے اس کی دوری ۱۲۰ کیلومیٹرہے۔
*
اہل عراق اور اس کے راستے سے آنے والو ں کے لئے ذاتِ عرق میقات ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے ۱۰۰ کیلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔
ان مذکورہ پانچ میقاتوں سے باہر کا علاقہ (یعنی تقریباً پوری دنیا) آفاق کہا جاتا ہے۔ اور اس کے رہنے والوں کو آفاقی کہا جاتاہے۔
پہلی قسم کا حکم : حدودِ میقات سے باہر رہنے والے (یعنی آفاقی) حضرات حج اور عمرہ کا احرام ان پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات پر یا اس سے پہلے یا اس کے مقابل باندھیں ۔
دوسری قسم : حرم :
مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور تک کی زمین حرم کہلاتی ہے، جس کی حُدود یہ ہیں :
*
مدینہ طیبہ کی طرف تنعیم (جہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے) تک حرم ہے جو مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔
*
جدہ کی طرف مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر شمیسیہ تک حرم ہے۔
*
طائف کی طرف عرفات تک حرم ہے جو مکہ سے سات میل کے فاصلہ پر ہے۔ یعنی عرفات حدودِ حرم سے باہر ہے۔
*
یمن کی طرف اضاء ۃ لبن تک حرم ہے جو مکہ سے سات میل کے فاصلہ پر ہے۔
*
عراق کی طرف سات میل تک حرم ہے۔
*
جعرانہ کی طرف نو میل تک حرم ہے۔
اس مقدس سرزمین (حرم) میں ہر شخص کے لئے چند چیزیں حرام ہیں چاہے وہاں کا مقیم ہو یا حج وعمرہ کرنے کے لئے آیا ہو۔
یہاں کے خود اُگے ہوئے درخت یا پودے کو کاٹنا۔
گری پڑی چیز کا اٹھانا ،البتہ گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کے لئے گری پڑی چیز کو اٹھایا جاسکتا ہے۔
یہاں کے کسی جانور کا شکار کرنا یا اس کو چھیڑنا۔ تکلیف دہ جانور جیسے سانپ، بچھو، گرگٹ، چھپکلی، مکھی، کھٹمل وغیرہ کو حرم میں بھی مارنا جائز ہے۔
وضاحت: غیر مسلموں کا حدود حرم میں داخلہ قطعاً حرام ہے۔
دوسری قسم کا حکم : اہلِ حرم (جو حدودِ حرم کے اندر مثلاً مکہ مکرمہ میں مستقل یا عارضی طور پر قیام پذیر ہیں) حج کا احرام اپنی رہائش سے ہی باندھیں، البتہ عمرہ کے لئے انہیں حرم سے باہر حل میں جاکر احرام باندھنا ہوگا۔
جو شخص میقات سے باہر کا رہنے والا ہے اور میقات پر احرام باندھ کرایک عمرہ کر چکا ہے، مکہ ہی میں رہ کر دوسرا عمرہ کرنا چاہتا ہے ، تو وہ بھی حِل میں کسی جگہ مثلاً تنعیم میں جاکر احرام باندھے، پھر دوسرے عمرہ کی ادائیگی کرے۔
مسجد حرام سے سب سے زیادہ قریب حل میں جگہ تنعیم ہے جہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے۔
تیسری قسم : حِل : میقات اور حرم کے درمیان کی سرزمین (مثلاً جدہ) حِل کہلائی جاتی ہے جس میں خود اُگے ہوئے درخت کو کاٹنا اور جانور کا شکار کرنا حلال ہے۔ نیز غیر مسلموں کا داخلہ بھی حل میں جائز ہے۔
تیسری قسم کا حکم : اہل حِل (جن کی رہائش میقات اور حدودِ حرم کے درمیان ہے مثلاً جدہ کے رہنے والے) حج اور عمرہ دونوں کا احرام اپنے گھر سے باندھیں۔
وضاحت: کوئی بھی شخص عمرہ کا احرام حدود حرم کے اندر (مثلاً مکہ مکرمہ میں ) نہیں باندھ سکتا ہے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)