Print

بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حج سے متعلق خواتین کے خصوصی مسائل

مردوں کی طرح حج کی ادائیگی خواتین بھی کرتی ہیں، مگر ان کی چند فطری عادات کی بنا پر کچھ مسائل میں مردوں سے فرق موجود ہے، جس کی وجہ سے ان کے بعض مسائل مردوں سے مختلف ہیں، جن کا جاننا حج کی ادائیگی کرنے والی ہر خواتین کے لئے ضروری ہے۔ حج سے متعلق خواتین کے خصوصی چند مسائل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات کی روشنی میں حسب ذیل ہیں:
عورت اگر خود مالدار یعنی صاحب استطاعت ہے تو اس پر حج فرض ہے ورنہ نہیں۔
عورت بغیر محرم یا شوہر کے حج کا سفر یا کوئی دوسرا سفر نہیں کرسکتی ہے، اگر کوئی عورت بغیر محرم یا شوہر کے حج کرلے تو اس کا حج تو ادا ہوجائے گا، لیکن بغیر محرم یا شوہر کے حج کا سفر یا کوئی دوسرا سفر کرنا بڑا گناہ ہے۔ محرم وہ شخص ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح حرام ہوجیسے باپ، بیٹا، بھائی، حقیقی مامو ں اور حقیقی چچا وغیرہ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ہر گز کوئی مرد کسی (نا محرم) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے اور ہر گز کوئی عورت سفر نہ کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرا نام فلاں جہاد کی شرکت کے سلسلہ میں لکھ لیا گیا ہے اور میری بیوی حج کرنے کے لئے نکلی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ (بخاری ومسلم)
عورتوں کے لئے بھی احرام سے پہلے ہر طرح کی پاکیزگی حاصل کرنا اور غسل کرنا مسنون ہے، خواہ ناپاکی ہی کی حالت میں ہوں۔
عورتوں کے احرام کے لئے کوئی خاص لباس نہیں ہے، بس عام لباس پہن کر دو رکعات نماز پڑھ لیں اور نیت کرکے آہستہ سے تلبیہ پڑھ لیں۔
احرام باندھنے کے وقت ماہواری آرہی ہو تو احرام باندھنے کا طریقہ یہ ہے کہ غسل کریں یا صرف وضو کریں، البتہ غسل کرنا افضل ہے، نماز نہ پڑھیں بلکہ چہرے سے کپڑا ہٹاکر نیت کرلیں اور تین بار آہستہ سے تلبیہ پڑھیں۔
عورتیں احرام میں عام سلے ہوئے کپڑے پہنیں ، ان کے احرام کے لئے کوئی خاص رنگ کا کپڑا ضروری نہیں ہے، بس زیادہ چمکیلے کپڑے نہ پہنیں نیز کپڑوں کو تبدیل بھی کرسکتی ہیں۔
عورتیں اس پورے سفر کے دوران پردہ کا اہتمام کریں۔ یہ جو مشہور ہے کہ حج وعمرہ میں پردہ نہیں ہے غلط ہے۔ حکم صرف یہ ہے کہ عورت احرام کی حالت میں چہرہ پر کپڑا نہ لگنے دے۔ اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ وہ نامحرموں کے سامنے چہرہ کھولے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ہم حالت احرام میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ تھے، گزرنے والے جب اپنی سواریوں پر گزرتے تھے تو ہم اپنی چادر کو اپنے سر سے آگے بڑھاکر چہرہ پر لٹکالیتے تھے، جب وہ آگے بڑھ جاتے تو چہرہ کھول دیتے تھے۔ (مشکوۃ ) غرضیکہ احرام کی حالت خواتین اپنے چہرہ کو کھلا رکھیں، اگر مرد حضرات سامنے آجائیں تو چہرہ پر نقاب ڈال دیں۔ اگر کچھ وقت کے لئے چہرہ پر نقاب پڑی رہ جائے یا کچھ وقت کے لئے مردوں کے سامنے چہرہ کھل جائے تو کوئی دم وغیرہ لازم نہیں اور ان شاء اللہ حج مکمل ادا ہوگا۔
عورتوں کا سر پر سفید رومال باندھنے کو احرام سمجھنا غلط ہے، صرف بالوں کو ٹوٹنے سے محفوظ رکھنے کے لئے سر پر رومال باندھ لیں تو کوئی حرج نہیں لیکن پیشانی کے اوپر سر پر باندھیں اور اس کو احرام کا حصہ نہ سمجھیں، نیز وضو کے وقت مسح کرنا فرض ہے، لہذا وضو کے وقت خاص طور پر اس سفید رومال کو کھول کر سر پر مسح ضرور کریں۔
اگر کوئی عورت ایسے وقت میں مکہ مکرمہ پہونچی کہ اس کو ماہواری آرہی ہے تو وہ پاک ہونے تک انتظار کرے، پاک ہونے کے بعد ہی مسجد حرام جائے۔ اگر ۸ ذی الحجہ تک بھی پاک نہ ہوسکی تو احرام ہی کی حالت میں طواف کئے بغیر منی جاکر حج کے سارے اعمال کرے۔
اگر کسی عورت نے حج قران یا حج تمتع کا احرام باندھا مگر شرعی عذر کی وجہ سے ۸ ذی الحجہ تک عمرہ نہ کرسکی اور ۸ ذی الحجہ کو احرام ہی کی حالت میں منی جاکر حاجیوں کی طرح سارے اعمال ادا کرلئے تو حج صحیح ہوجائے گا، لیکن دم اور عمرہ کی قضا واجب ہونے یا نہ ہونے میں علماء کی رائے مختلف ہیں۔
ماہواری کی حالت میں صرف طواف کرنے کی اجازت نہیں ہے باقی سارے اعمال ادا کئے جائیں گے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم لوگ (حجۃ الوداع والے سفر میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ مدینہ سے چلے، ہماری زبانوں پر بس حج ہی کا ذکر تھا یہاں تک کہ جب (مکہ مکرمہ کے بالکل قریب) مقام سرف پر پہونچے (جہاں سے مکہ مکرمہ صرف ایک منزل رہ جاتا ہے) تو میرے وہ دن شروع ہوگئے جو عورتوں کو ہر مہینے آتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  (خیمہ میں) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دیکھا کہ میں بیٹھی رو رہی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: شاید تمہارے ماہواری کے ایام شروع ہوگئے ہیں۔ میں نے عرض کیا: ہاں یہی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (رونے کی کیا بات ہے) یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں (یعنی سب عورتوں )کے ساتھ لازم کردی ہے تم وہ سارے اعمال کرتی رہو جو حاجیوں کو کرنے ہیں سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ اس سے پاک وصاف نہ ہوجاؤ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم(
ماہواری کی حالت میں نماز پڑھنا، مسجد میں داخل ہونا اور طواف کرنا بالکل ناجائز ہے، البتہ صفا ومروہ کی سعی کرنا جائز ہے۔ یعنی اگر کسی عورت کو طواف کرنے کے بعد ماہواری آجائے تو وہ سعی کرسکتی ہے مگر اس کو چاہئے کہ سعی کے بعد مسجد حرام کے اندر داخل نہ ہو بلکہ مروہ سے باہر نکل جائے۔
عورتیں ماہواری کی حالت میں ذکر واذکار جاری رکھ سکتی ہیں بلکہ ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے ذکر میں مشغول رکھیں، نیز دعائیں بھی کرتی رہیں، البتہ ماہواری کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت نہیں کرسکتی ہیں۔
اگر کسی عورت کو طواف کے دوران حیض آجائے تو فورا طواف کو بند کردے اور مسجد سے باہر چلی جائے۔
خواتین طواف میں رمل (اکڑکر چلنا) نہ کریں، یہ صرف مردوں کے لئے ہے۔
ہجوم ہونے کی صورت میں خواتین حجر اسود کا بوسہ لینے کی کوشش نہ کریں، بس دور سے اشارہ کرنے پر اکتفا کریں۔ اسی طرح ہجوم ہونے کی صورت میں رکن یمانی کو بھی نہ چھوئیں۔ صحیح بخاری (کتاب الحج) کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں سے بچ بچ کر طواف کررہی تھیں کہ ایک عورت نے کہا کہ چلئے ام المؤمنین بوسہ لے لیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار فرمادیا۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک خاتون حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ طواف کررہی تھیں، حجر اسود کے پاس پہونچ کر کہنے لگیں: اماں عائشہؓ ! کیا آپ بوسہ نہیں لیں گی؟ آپ نے فرمایا: عورتوں کے لئے کوئی ضروری نہیں، چلو آگے بڑھو۔ (اخبار مکہ للفاکہی)
مقام ابراہیم میں مردو ں کا ہجوم ہو تو خواتین وہاں طواف کی دو رکعات نماز پڑھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مسجد حرام میں کسی بھی جگہ پڑھ لیں۔
خواتین سعی میں سبز ستونوں (جہاں ہری ٹیوب لائٹیں لگی ہوئی ہیں) کے درمیان مردوں کی طرح دوڑکر نہ چلیں۔
طواف اور سعی کے دوران مردوں سے حتی الامکان دور رہیں اور اگر مسجد حرام میں نماز پڑھنی ہو تو اپنے مخصوص حصہ میں ہی ادا کریں، مردوں کے ساتھ صفوں میں کھڑی نہ ہوں۔
ایام حج کے قریب جب ہجوم بہت زیادہ ہوجاتا ہے ،خواتین ایسے وقت میں طواف کریں کہ جماعت کھڑی ہونے سے کافی پہلے طواف سے فارغ ہوجائیں۔
عورتیں بھی اپنے والدین اور متعلقین کی طرف سے نفلی عمرے کرسکتی ہیں۔
تلبیہ ہمیشہ آہستہ آواز سے پڑھیں۔
منی، عرفات اور مزدلفہ کے قیام کے دوران ہر نماز کو اپنی قیام گاہ ہی میں پڑھیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے کہ عرفات کا پورا میدان وقوف کی جگہ ہے اس لئے اپنے ہی خیموں میں رہیں اورکھڑے ہوکر قبلہ رخ ہوکر خوب دعائیں مانگیں۔ تھکنے پر بیٹھ کر بھی اپنے آپ کو دعاؤں اور ذکر وتلاوت میں مشغول رکھیں۔ دنیاوی باتیں ہرگز نہ کریں۔
مزدلفہ پہونچ کرمغرب اور عشاء دونوں نمازیں عشاء ہی کے وقت ادا کریں۔
خواتین کے لئے اجازت ہے کہ مزدلفہ کے میدان سے آدھی رات کے بعد منی میں اپنے خیمہ میں چلی جائیں۔
ہجوم کے اوقات میں کنکریاں مارنے ہرگز نہ جائیں، عورتیں رات میں بھی بغیر کراہت کے کنکریاں مارسکتی ہیں۔
معمولی معمولی عذر کی وجہ سے دوسروں سے رمی (کنکریاں مارنا) نہ کرائیں بلکہ ہجوم کے بعد خود کنکریاں ماریں۔ بلا شرعی عذر کے دوسرے سے رمی کرانے پر دم لازم ہوگا۔ محض بھیڑ کے خوف سے عورت کنکریاں مارنے کے لئے دوسرے کو نائب نہیں مقرر کرسکتی ہے۔
طواف زیارت ایام حیض میں ہرگز نہ کریں، ورنہ ایک بدنہ یعنی پورا اونٹ یا پوری گائے (حدود حرم کے اندر) ذبح کرنا واجب ہوگا۔
ماہواری کی حالت میں اگر طواف زیارت کیا، مگر پھر پاک ہوکر دوبارہ کرلیا تو بدنہ یعنی پورے اونٹ یا پوری گائے کی قربانی واجب نہیں۔
طواف زیارت (حج کاطواف) کا وقت ۱۰ ذی الحجہ سے ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک ہے۔ بعض علماء نے ۱۳ ذی الحجہ تک وقت تحریرکیا ہے۔ ان ایام میں اگر کسی عورت کو ماہواری آتی رہی تو وہ طواف زیارت نہ کرے بلکہ پاک ہونے کے بعد ہی کرے،اس تاخیر کی وجہ سے کوئی دم واجب نہیں۔ البتہ طواف زیارت کئے بغیر کوئی عورت اپنے وطن واپس نہیں جاسکتی ہے، اگر واپس چلی گئی تو عمر بھر یہ فرض لازم رہے گا اور شوہر کے ساتھ صحبت کرنا اور بوس وکنار حرام رہے گا یہاں تک کہ دوبارہ حاضر ہوکر طواف زیارت کرے۔ لہذا طواف زیارت کئے بغیر کوئی عورت گھر واپس نہ جائے۔ اگر طواف زیارت سے قبل کسی عورت کو ماہواری آجائے اور اس کے طے شدہ پروگرام کے مطابق اس کی گنجائش نہ ہو کہ وہ پاک ہوکر طواف زیارت کرسکے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر طرح کی کوشش کرے کہ اس کے سفر کی تاریخ آگے بڑھ سکے تاکہ وہ پاک ہوکر طواف زیارت (حج کا طواف) ادا کرنے کے بعد اپنے گھر واپس جاسکے(عموماً معلم حضرات ایسے موقع پر تاریخ بڑھادیتے ہیں)، لیکن اگر ایسی ساری ہی کوششیں ناکام ہوجائیں اور پاک ہونے سے پہلے اس کا سفر ضروری ہوجائے تو ایسی صورت میں ناپاکی کی حالت میں وہ طواف زیارت کرسکتی ہے۔ یہ طواف زیارت شرعاً معتبر ہوگا اور وہ پورے طور پر حلال ہوجائے گی لیکن اس پر ایک بدنہ (یعنی پورا اونٹ یا پوری گائے) کی قربانی بطورِ دم حدود حرم میں لازم ہوگی،یہ دم اسی وقت دینا ضروری نہیں بلکہ زندگی میں جب چاہے دیدے۔
طواف زیارت اور حج کی سعی کرنے تک شوہر کے ساتھ خاص جنسی تعلقات سے بالکل دور رہیں۔
اگر کوئی خاتون اپنی عادت یا آثار وعلامت سے جانتی ہے کہ عنقریب حیض شروع ہونے والا ہے اور حیض آنے میں اتنا وقت ہے کہ وہ مکہ جاکر طواف زیارت (طواف زیارت کے وقت میں) کرسکتی ہے تو فوراً کرلے، تاخیر نہ کرے۔ اور اگر اتنا وقت بھی نہیں کہ طواف کرسکے تو پھر پاک ہونے تک انتظار کرے۔ طواف زیارت‘ رمی (کنکریاں مارنا)، قربانی اور بال کٹوانے سے پہلے یا بعد میں کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔
مکہ مکرمہ سے روانگی کے وقت اگر کسی عورت کو ماہواری آنے لگے تو طواف وداع اس پر واجب نہیں۔ طواف وداع کئے بغیر وہ اپنے وطن جاسکتی ہے۔
جو مسائل ماہواری کے بیان کئے گئے ہیں وہی بچہ کی پیدائش کے بعد آنے والے خون کے ہیں، یعنی اس حالت میں بھی خواتین طواف نہیں کرسکتی ہیں، البتہ طواف کے علاوہ سارے اعمال حاجیوں کی طرح ادا کریں۔
اگر کسی عورت کو بیماری کا خون آرہا ہے، تو وہ نمازبھی ادا کرے گی اور طواف بھی کرسکتی ہے، اس کی صورت یہ ہے ایک نماز کے وقت میں وضو کرے اور پھر اس وضو سے اس نماز کے وقت میں جتنے چاہے طواف کرے اور جتنی چاہے نمازیں پڑھے۔ دوسری نماز کا وقت داخل ہونے پر دوبارہ وضو کرے۔ اگر طواف مکمل ہونے سے پہلے ہی دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے تو وضو کرکے طواف کو مکمل کرے۔
بعض خواتین کو حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے وقت یا ان کو ادا کرنے کے دوران ماہواری آجاتی ہے جس کی وجہ سے حج وعمرہ ادا کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور بعض مرتبہ قیام کی مدت ختم ہونے یا مختصر ہونے کی وجہ سے سخت دشواری لاحق ہوجاتی ہے، اس لئے جن خواتین کو حج یا عمرہ ادا کرنے کے دوران ماہواری آنے کا اندیشہ ہو اور وہ صرف چند ایام کے ٹور پر حج کی ادائیگی کے لئے جارہی ہے جیسا کہ سعودی عرب میں مقیم حضرات چند ایام کے لئے جاتے ہیں تو ان کے لئے یہ مشورہ ہے کہ وہ کسی لیڈی ڈاکٹر سے اپنے مزاج وصحت کے مطابق عارضی طور پر ماہواری روکنے والی دوا تجویز کرالیں اور استعمال کریں تاکہ حج وعمرہ کے ارکان ادا کرنے میں کوئی الجھن پیش نہ آئے۔ شرعی لحاظ سے ایسی دوائیں استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
حرمین میں تقریباً ہر نماز کے بعد جنازہ کی نماز ہوتی ہے، خواتین بھی اس میں شریک ہوسکتی ہیں.
محمد نجیب قاسمی سنبھلی، ریاض (www.najeebqasmi.com)