بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حج میں وقوف مزدلفہ سے متعلق ایک تنبیہ

وقوف مزدلفہ حج کے واجبات میں سے ایک واجب ہے، اس کے چھوڑنے پر دم واجب ہوگا۔ وقوف مزدلفہ کا مطلب ۹ ذی الحجہ کے بعد آنے والی رات مزدلفہ میں گزارکر نماز فجر مزدلفہ میں ادا کرکے کچھ دیر قبلہ کی طرف رخ کرکے دعائیں کرنا۔ اگر کوئی شخص مزدلفہ میں صبح صادق کے قریب پہونچا اور نماز فجر مزدلفہ میں ادا کرلی تو وقوف مزدلفہ کا وجوب ادا ہوجائے ہوگا اور اس پر کوئی دم وغیرہ لازم نہیں ہوگا، لیکن قصداً اتنی تاخیر سے مزدلفہ پہونچنا سنت کے خلاف ہے۔ خواتین، بیمار اور کمزور لوگ آدھی رات مزدلفہ میں گزارنے کے بعد منی جاسکتے ہیں، ان پر کوئی دم واجب نہیں ہوگا۔
۹ذی الحجہ کو غروب آفتاب کے بعد عرفات سے مزدلفہ پیدل جانے والے حجاج کرام اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ عرفات کی حدود سے نکلتے ہی مزدلفہ شروع نہیں ہوتا ہے بلکہ چھ سات کیلومیٹر کا راستہ طے کرنے کے بعد مزدلفہ کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ مزدلفہ، عرفات اور منی کی حدود کی نشاندہی کے لئے الگ الگ رنگ کے بورڑ لگادئے گئے ہیں کہ کہاں پر حدود شروع اور کہاں پر حدود ختم ہیں، لہذا ان کی رعایت کرتے ہوئے قیام فرمائیں۔ مگر متعدد سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ حجاج کرام کی قابل قدر تعداد مزدلفہ سے قبل ہی مزدلفہ سمجھ کر رات گزار دیتی ہے حتی کہ ہزاروں حجاج کرام راستوں میں ہی قیام کرتے ہیں، جس سے جہاں ان حجاج کرام کا وقوف مزدلفہ صحیح نہیں ہوتا، وہیں دیگر حجاج کرام کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بھی مزدلفہ کی حدود سے قبل ہی قیام کرلیتے ہیں۔ یہ بات میں دیکھنے میں آئی ہے کہ بعض ایجنٹ حضرات اپنے حاجیوں کو آدھی رات سے قبل ہی منی خیمہ میں لے جاتے ہیں حالانکہ حضور اکرم ﷺ نے صرف بوڑھے اور خواتین کو مزدلفہ سے منی جانے کی اجازت دی تھی وہ بھی آدھی رات مزدلفہ میں گزارنے کے بعد۔ افسوس اور فکر کی بات ہے کہ اس موقع پر رضا کاراور انتظامیہ کے افراد بھی حجاج کرام کی رہنمائی کے لئے نظر نہیں آتے، حالانکہ وقوف مزدلفہ کے واجب ہونے کی وجہ سے اس جگہ پر حجاج کرام کی رہنمائی کے لئے اچھی خاصی تعداد میں رضا کاراور انتظامیہ کے افراد کی ضرورت ہے۔ اگرچہ منی پہنچنے کے بعد رضا کاراور انتظامیہ کے افراد خوب دلچسپی سے حجاج کرام کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔
جو حجاج کرام ٹرین کے ذریعہ عرفات سے مزدلفہ آتے ہیں وہ میدان مزدلفہ میں داخل ہوجاتے ہیں، مگر وقت کی قلت کی وجہ سے حجاج کرام کی اچھی خاصی تعداد ٹرین کے بجائے گاڑیوں سے یا پیدل عرفات سے مزدلفہ آتی ہے۔ گاڑیوں سے آنے والے حجاج کرام کو بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عرفات سے پیدل چل کر آنے والے حجاج کرام کافی تھک جاتے ہیں اور پھر ان کو آگے جانے کا راستہ نہیں مل پاتا لہٰذا وہ مزدلفہ کی حدود سے قبل ہی آرام کرتے ہیں اور پھر بعد میں اتنا ازدحام ہوجاتا ہے کہ ایک قدم رکھنے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی، یعنی پھر اگر حاجی آگے بڑھنا بھی چاہے تو آگے نہیں جاسکتا۔ لہٰذا تمام عازمین حج مزدلفہ پہنچ کر اپنے وقوف مزدلفہ کو صحیح طریقہ سے انجام دیں ورنہ دم لازم آئے گا۔
مزدلفہ پہونچ کر یہ کام کریں:
1) عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملاکر ادا کریں۔ طریقہ یہ ہے کہ جب عشاء کا وقت ہوجائے تو پہلے اذان اور اقامت کے ساتھ مغرب کے تین فرض پڑھیں، مغرب کی سنتیں نہ پڑھیں بلکہ فوراً عشاء کے فرض ادا کریں، مسافر ہوں تو دو رکعت اور مقیم ہوں تو چار رکعت فرض ادا کریں۔ عشاء کی نماز کے بعد سنتیں پڑھنا چاہیں تو پڑھ لیں مگر مغرب اور عشاء کے فرضوں کے درمیان سنت یا نفل نہ پڑھیں۔ مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھنے کے لئے جماعت شرط نہیں، خواہ جماعت سے پڑھیں یا تنہا دونوں کو عشاء کے وقت میں ہی ادا کریں۔
2) اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، تلبیہ پڑھیں، تلاوت کریں، توبہ واستغفار کریں اور دعائیں مانگیں کیونکہ یہ رات مبارک رات ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاِذَا اَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْکُرُوا اللّہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ (سورہ البقرۃ، آیت ۱۹۸) (جب تم عرفات سے واپس ہوکر مزدلفہ آؤ تو یہاں مشعر حرام کے پاس اللہ کے ذکر میں مشغول رہو)۔ رات میں کچھ دیر سو بھی لیں کیونکہ سونا حدیث سے ثابت ہے۔
3) صبح سویرے فجر کی سنت اور فرض ادا کریں، فجر کی نماز کے بعد کھڑے ہوکر قبلہ رخ ہوکر دونوں ہاتھ اٹھاکر رو روکر دعائیں مانگیں۔ یہی مزدلفہ کا وقوف ہے جو واجب ہے۔
4) مزدلفہ سے منی روانگی کے وقت بڑے چنے کی برابر کنکریاں چن لیں لیکن تمام کنکریوں کا مزدلفہ ہی سے اٹھانا ضروری نہیں بلکہ منی سے بھی اٹھاسکتے ہیں۔
چند وضاحتیں:
مزدلفہ کے تمام میدان میں جہاں چاہیں وقوف کرسکتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے مشعرحرا م کے قریب وقوف کیا ہے(جہاں آجکل مسجد ہے) جبکہ مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے ۔
اگر کوئی شخص مزدلفہ میں صبح صادق کے قریب پہونچا اور نماز فجر مزدلفہ میں ادا کرلی تو اس کا وقوف درست ہوگا، اس پر کوئی دم وغیرہ لازم نہیں۔ لیکن قصداً اتنی تاخیر سے مزدلفہ پہونچنا مکروہ ہے۔
اگر کوئی شخص کسی عذر کے بغیر فجر کی نماز سے قبل مزدلفہ سے منی چلا جائے تو اس پر دم واجب ہوجاتا ہے۔
رات مزدلفہ میں گزارکر صبح کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد وقوف کرنا واجب ہے۔ مگر خواتین، بیمار اور کمزور لوگ آدھی رات مزدلفہ میں گزارنے کے بعد منی جاسکتے ہیں، ان پر کوئی دم واجب نہ ہوگا۔
عرفات سے مزلفہ جاتے ہوئے راستہ میں صرف مغرب یا مغرب اور عشاء دونوں کا پڑھنا صحیح نہیں ہے، بلکہ مزدلفہ پہونچ کر ہی عشاء کے وقت میں دونوں نمازیں ادا کریں۔
 مزدلفہ پہونچ کر مغرب اور عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے ہی کنکریاں اٹھانا صحیح نہیں ہے، بلکہ مزدلفہ پہونچ کر سب سے پہلے عشاء کے وقت میں دونوں نمازیں ادا کریں۔
بہت سے حجاج کرام مزدلفہ میں ۱۰ ذی الحجہ کی فجر کی نماز پڑھنے میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں اور قبلہ رخ ہونے میں احتیاط سے کام نہیں لیتے جس سے فجر کی نماز نہیں ہوتی۔ لہذا فجر کی نماز وقت داخل ہونے کے بعد ہی پڑھیں نیز قبلہ کا رخ واقف حضرات سے معلوم کریں۔
مزدلفہ میں فجر کی نماز کے بعد عرفات کے میدان کی طرح ہاتھ اٹھاکر قبلہ رخ ہوکر خوب دعائیں مانگی جاتی ہیں، مگر اکثر حجاج کرام اس اہم وقت کے وقوف کو چھوڑ دیتے ہیں۔
ان دنوں جگہ کی تنگی کی وجہ سے مزدلفہ میں بھی خیمے لگے ہوئے ہیں جن میں حجاج کرام کی ایک تعداد منی کے بجائے قیام کرتی ہے۔ ۱۰، ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کو رات منی میں گزارنا سنت ہے واجب نہیں، لہذا اگر خیمہ مزدلفہ میں ملا ہے تو قیام منی کے ایام میں وہاں رات گزاری جاسکتی ہے۔
جن حجاج کرام کو مزدلفہ میں خیمہ ملتا ہے تو وہ عرفات سے واپسی پر اپنے خیمہ میں رات گزار لیتے ہیں، شرعاً اس کی گنجائش تو ہے لیکن اگر حضور اکرم ﷺ کی اتباع میں کھلے میدان میں رات گزاریں تو بہتر ہے۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)