بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

حرم مکی یا حرم مدنی میں موت

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص میدان عرفات میں رسول اللہﷺ کے ساتھ کھڑا تھا کہ اپنی اونٹی سے گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو، اس کو اسی کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، نہ خوشبو لگاؤ اور نہ سر ڈھانکو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت میں اس حال اٹھائے گا کہ یہ لبیک پکارتا ہوگا۔ صحیح بخاری وصحیح مسلم
اللہ تعالیٰ مُحرم کو تلبیہ پڑھتے ہوئے قیامت کے دن اٹھائیں گے تاکہ ظاہری حالت سے ہی اس کا حاجی ہونا معلوم ہوجائے جیسے شہید کو اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا خون اس کی رگوں سے بہہ رہا ہوگا۔ دیگر احادیث کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے ہو اور اس کا انتقال ہوجائے تو اسے بھی یہ فضیلت حاصل ہوگی انشاء اللہ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص حج کو جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے، اس کے لئے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا اور جو شخص عمرہ کے لئے جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے تو اس کو قیامت تک عمرہ کا ثواب ملتا رہے گا۔ ابن ماجہ
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص دو حرموں (یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) میں سے کسی ایک میں مرے گا توقیامت کے دن امن والوں میں اٹھایا جائے گا۔ اور جو ثواب کی نیت سے مدینہ میں میری زیارت کرنے آئے گا وہ قیامت کے دن میرے پڑوس میں ہوگا۔ (شعب الایمان للبیہقی) اس حدیث کی سند پر بعض علماء نے کلام کیا ہے۔ لیکن جمعہ کے روز مغرب سے قبل بابرکت گھڑی میں کرین حادثہ میں انتقال کرنے والے حضرات انشاء اللہ قیامت کے دن امن وسکون میں ہوں گے اور وہ جنت الفردوس میں مقام حاصل کریں گے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتا ہے (یعنی یہاں آکر موت تک قیام کرسکتا ہے) اسے ضرور مدینہ میں مرنا چاہئے کیونکہ میں اس شخص کے لئے سفارش کروں گا جو مدینہ منورہ میں مرے گا۔ ترمذی
محمد نجیب قاسمی (www.najeebqasmi.com)