Print

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

سفر حج کی آپ بیتی اور انتظامی امور کا جائزہ

امسال شوال کی ابتدائی تاریخوں میں ہی حج کی ادائیگی کا ارادہ کرلیا تھا۔ سالِ گزشتہ سے سعودی عرب میں مقیم عازمین حج کے لئے آن لائن رجسٹریشن شروع کردیا گیا ہے۔ جس سے جہاں عازمین حج کو سہولت ہوئی ہے، وہیں حجاج کرام کے لئے مالی اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے اور غیر قانونی طور پر جانے والے عازمین حج پر کافی حد تک کنٹرول بھی ہوا ہے۔ سعودی حکومت کا یہ قدم قابل تحسین ہے البتہ اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ سعودی حکومت نے امسال بھی تقریباً پچاس ہزار لوکل حاجیوں کو رعایتی قیمت پر حج کرانے کا فیصلہ کیا۔ رعایتی قیمت پر رجسٹریشن کے حصول کے لئے یکم ذو القعدہ کو صبح آٹھ بجے سے بے شمار حضرات کی طرح میں بھی آن لائن کوشش میں لگ گیا، مگر سالِ گزشتہ کی طرح امسال بھی ہزاروں افراد کے بیک وقت رجسٹریشن کے حصول کی کوشش کی وجہ سے ویب سائٹ صحیح طریقہ سے کام نہیں کررہی تھی۔ مسلسل تگ ودو کے بعد ہی ظہر تک آن لائن رجسٹریشن کرانے میں کامیابی مل سکی۔ آن لائن رجسٹریشن کے عمل میں مزید سہولت پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ رعایتی قیمت کا مطلب صرف یہ ہے کہ حکومت اپنی فیس کم لیتی ہے، باقی اخراجات تقریباً برابر ہی ہوتے ہیں۔ رجسٹریشن کے بعد چار ہزار ریال فی شخص (تقریباً ستر ہزار روپئے) فیس بھی آن لائن جمع کردی گئی۔ دیگر مطلوبہ دستاویزات بھی آن لائن ارسال کردئے گئے۔ چند ایام میں حج کی تصریح (اجازت نامہ) بھی آن لائن دستیاب ہوگئی۔

آن لائن رجسٹریشن کے وقت مکہ مکرمہ کی حج کمپنی ’’شرکہ محمد عبداللہ القرشی‘‘ کو اختیار کرنے کی وجہ سے ریاض سے مکہ مکرمہ آنے جانے کا انتظام ہمیں خود کرنا تھا، چنانچہ سابتکو (سرکاری بس سروس) کا ۲۲۰ ریال فی شخص آنے جانے کا ٹکٹ ذوالقعدہ کے آخر میں ہی حج کی تصریح دکھاکر خرید لیا تھا۔ ۷ ستمبر بروز بدھ کو ایرکنڈیشن بس کے ذریعہ مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے۔ رات نو بجے طائف کے قریب واقع میقات (السیل الکبیر) پہنچ گئے، جو ریاض سے تقریباً ۸۰۰ کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ ریاض ودمام وغیرہ سے عمومی طور پر عازمین حج ۶ یا ۷ ذی الحجہ کو روانہ ہوتے ہیں، ہم ۵ ذی الحجہ کی دوپہر کو روانہ ہوگئے تھے، اس لئے میقات پر ازدحام نہیں تھا۔ سہولت کے ساتھ غسل کیا، احرام باندھ کر مسجد میں سنت کے مطابق دایاں قدم رکھ کر دعا پڑھتے ہوئے داخل ہوئے۔پہلے عشاء کی نماز ادا کی اور پھر اپنے نبی کی اقتداء میں دو رکعات نفل احرام کی نیت سے ادا کیں اور حج کی نیت کرکے تلبیہ پڑھا۔ تلبیہ پڑھتے ہی یقین ہوگیا کہ ہماری روح نے بھی آج سے تقریباً چار ہزار سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ندا کے جواب میں متعدد مرتبہ لبیک کہا تھا ۔

تقریباً دو گھنٹہ حج کا ترانہ (لبیک اللہم لبیک) پڑھتے ہوئے میقات (السیل الکبیر) سے ۱۰۰ کیلومیٹر کے فاصلہ پر دنیا کے وسط میں واقع شہر مکہ مکرمہ پہنچ گئے جہاں کی زیارت ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے، اور کتنے ہی مسلمان اپنی اس تمنا کو دل میں لے کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ مسجد حرام سے ۷ کیلومیٹر کے فاصلہ پر تنعیم، جہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے، کے قریب اپنے قریبی رشتہ دار کے گھر پر تھوڑا آرام کرکے تلبیہ پڑھتے ہوئے مسجد حرام کی طرف روانہ ہوئے۔

سنت کے مطابق مسجد حرام میں داخل ہوکر بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑنے پر دعا کی کیونکہ اس موقع پر مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے۔ یہی وہ ہمارا قبلہ ہے جس کی طرف رخ کرکے دنیا بھر کے مسلمان اپنے نبی کی آنکھوں کی ٹھنڈک یعنی نماز کی ادائیگی کرتے ہیں۔ حج کی تین قسموں میں سے حج بدل میں حج افراد کرنا احتیاط پر مبنی ہے، اگرچہ حج قران اور حج تمتع کی بھی گنجائش ہے۔ ہندوپاک سے آنے والے عازمین حج عموماً حج تمتع ہی کرتے ہیں، جس میں پہلے عمرہ کی ادائیگی اور پھر بعد میں حج کی ادائیگی کی جاتی ہے، جبکہ قران میں عمرہ اور حج کا ایک ساتھ احرام باندھا جاتا ہے۔ حج افراد میں عمرہ شامل نہیں ہوتا ہے۔ہمارا احرام حج افراد کا تھا، لہٰذا بیت اللہ کا طواف (طواف قدوم جو سنت ہے) کیا اور خواتین ساتھ میں ہونے کی وجہ سے سہولت پر عمل کرتے ہوئے حج کی سعی بھی اسی وقت کرلی۔ سعی کی ابتدا صفا سے ہوتی ہے اور آخری ساتواں چکر مروہ پر مکمل ہوتا ہے۔

۶اور ۷ ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران شدید گرمی کے باوجود مسجد حرام میں نمازیں ادا کرنے کی کوشش کی کیونکہ مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے جو پوری زندگی کی نمازوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔ محسن انسانیت کے طریقہ کے مطابق یوم الترویہ (یعنی ۸ ذی الحجہ) کی صبح کو مکہ مکرمہ سے حج کمپنی کی بس کے ذریعہ منی پہنچ کر خیمہ میں قیام کیا۔ ریاض واپسی تک صرف ۹ روز کا پروگرام ہونے کی وجہ سے اس پورے سفر میں ظہر، عصر ا ور عشاء کی ۲ رکعات فرض ادا کیں۔ نماز وتر اور فجر کی سنت کے اہتمام کے ساتھ حسب سہولت سنن ونوافل بھی پڑھیں۔ سفر میں سنن ونوافل چھوڑنے کی اجازت تو ہے، لیکن یہ یقین رکھ کر کہ سنن ونوافل پڑھنے میں ہمارا ہی فائدہ ہے، خیمہ میں رہ کر دنیاوی گفتگو سے بچ کر سنن ونوافل کے پڑھنے کے ساتھ تلاوت قرآن اور ذکر الہٰی کا اہتمام کیا۔ وقتاً فوقتاً حج کا ترانہ تھوڑی آواز کے ساتھ پڑھتے رہے۔ سعودی حکومت کی تعلیمات کے مطابق حج کمپنی کی جانب سے مقامات مقدسہ میں ناشتہ، دوپہر اور شام کے کھانے کے علاوہ چوبیس گھنٹے پانی، جوس اور چائے وغیرہ کا معقول انتظام تھا۔ ہمارے ساتھ اکثر حجاج کرام عرب تھے، وہ اپنی عادت سے مجبور کھانا بہت ضائع کررہے تھے، جس پر کافی تکلیف ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کھانے کی اشیاء کو ضائع کرنے سے محفوظ فرمائے۔ ہاں عربوں کے ساتھ حج کی ادائیگی کا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ مصالحہ دار کھانے نہیں ملے، اس لئے اس پورے سفر میں الحمد اللہ پیٹ کا نظام صحیح رہا۔

آن لائن رجسٹریشن کے وقت ہی مقامات مقدسہ میں نقل مکانی کے لئے ۲۵۰ ریال کی ادائیگی پر ٹرین کی سہولت حاصل کرلی تھی۔ مقامات مقدسہ میں ٹرین کا سلسلہ ۲۰۱۰ء میں ۱۸ ٹرین کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ پہلا سال تجرباتی ہونے کی وجہ سے ٹرین کے الیکٹرونک نظام کو کم استعمال کیا گیا تھا۔ البتہ ۲۰۱۱ء سے ٹرین کے دروازے بند کرنے کے علاوہ مکمل طور سے الیکٹرونک نظام کا استعمال کیا جارہا ہے۔ خواتین اور بوڑھے حجاج کرام کی رعایت میں تمام ڈبوں کے گارڈ کی جانب سے گرین سگنل کے بعد ہی ڈرائیور ٹرین کے دروازے بند کرتا ہے۔ یہ ٹرین بغیر ڈرائیور کے بھی چل سکتی ہے۔ مجموعی طور پر ۹ ریلوے اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ تین منی میں ، تین مزدلفہ میں اور تین عرفات میں۔ اپنے نبی اکرم ﷺکی سنت کے مطابق ۹ ذی الحجہ یعنی یوم العرفہ کی صبح ناشتہ وغیرہ سے فراغت کے بعد حج کمپنی کے مرشدین کے ساتھ ٹرین کے ذریعہ عرفات کے لئے روانہ ہوئے۔ ٹرین کا سفر تقریباً ۱۰ منٹ کا تھا لیکن ٹرین کو حاصل کرنے اور ٹرین سے اترکر عرفات کے خیمہ تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ گئے، جس کی وجہ سے کافی تھکن بھی ہوئی، لیکن اس یقین کے ساتھ برداشت کیا کہ اللہ تعالیٰ اس پر اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ حجاج کرام کی مقامات مقدسہ کے دوران نقل مکانی کے لئے چھ سال میں جتنی بہتری ہونی چاہئے تھی، نہیں ہوسکی۔ یقیناًلاکھوں حجاج کرام کی نقل مکانی ایک بڑا پروجیکٹ ہے، لیکن دشوار کن مراحل پر صلاحیتیں لگاکر ان کو آسان بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ حج کے ایام کے علاوہ مقامات مقدسہ کے بالکل خالی ہونے کی وجہ سے دن رات کام کرکے حجاج کرام کی نقل مکانی کو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

خیمہ میں تھوڑا آرام کرکے تقریباً ۲ کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع مسجد نمرہ کی طرف تلبیہ پڑھتے ہوئے پیدل روانہ ہوئے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ساری انسانیت کے نبی اکرم ﷺ نے ۱۰ ہجری کو زوال آفتاب کے بعد خطبہ دیا تھا، جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خطبہ قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لئے عظیم منشورودستور ہے۔ ۸ہجری میں مکہ مکرمہ فتح ہوا، ۹ ہجری میں حج کی فرضیت ہوئی مگر ۹ ہجری کو آپ ﷺ حج کی ادائیگی نہیں کرسکے، بلکہ آپ ﷺنے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عازمین حج کا امیر بناکر روانہ فرمایااور سورۃ التوبہ آیت ۲۸ کے مطابق یہ اعلان کردیا گیا کہ اس سال کے بعد اس خطہ مبارکہ میں کوئی کافر یا مشرک نہیں رہے گا۔ آئندہ سال یعنی ۱۰ ہجری کو مدینہ منورہ سے پہلا اور آخری حج آپ ﷺ نے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابۂ کرام کی معیت میں کیا۔ اور اس کے صرف تین ماہ بعد آپ ﷺ اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے۔

مسجد نمرہ کی دیوار کے نیچے دھوپ کی تپش میں چھتری لگائے بیٹھ کر خطبہ شروع ہونے کا انتظار کیا۔ حجاج کرام کی اکثریت مسجد نمرہ نہیں پہنچ پاتی ہے، بلکہ زیادہ تر حجاج کرام اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز ادا کرتے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے لگائے گئے فواروں سے ہلکا ہلکا پانی جسم پر گرنے کی وجہ سے گرمی کی شدت سے کافی راحت مل رہی تھی۔ پانی، جوس اور لسی وغیرہ ایسی عقیدت کے ساتھ مسلم بھائی تقسیم کررہے تھے کہ ان کے خلوص اور محبت کی وجہ سے حجاج کرام خوشی خوشی لے رہے تھے۔ مختلف ملکوں کے رہنے والے، مختلف رنگ والے اور مختلف زبان بولنے والے شدید گرمی کے باوجود صرف اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنی ظاہری زیب وزینت چھوڑکر تھوڑی بلند آواز کے ساتھ تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ اس موقعہ پر دل سے دعا بھی نکل رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ حاجیوں کی خدمت کرنے والوں کو اجر عظیم سے نوازے۔ اس پورے سفر میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی، اخوت اورجاں نثاری کی جو مثالیں دیکھنے کو ملیں، دنیا کے کسی کونے میں بظاہر نظر نہیں آتیں۔

زوال آفتاب کے فوراً بعد مسجد حرام کے امام وخطیب ڈاکٹر عبد الرحمن سدیس نے تقریباً ۴۰ منٹ کا خطبہ دیا جس میں اسلام کے محاسن اور خوبیاں بیان کرکے امت مسلمہ کے تمام افراد کو قرآن وحدیث پر عمل کرنے کی دعوت دی۔ شیخ سدیس کے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ انہوں نے حج کا خطبہ دیا کیونکہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ ۳۵ سال سے برابر اس ذمہ داری کو انجام دے رہے تھے۔ خطبہ سن کر ظہر اور عصر کی نمازیں شیخ عبدالرحمن سدیس کی امامت میں پڑھیں۔ نماز سے فراغت کے بعد تلبیہ پڑھتے ہوئے پیدل چل کر خیمہ پہنچ گئے۔ حج کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا دوپہر کا کھانا تناول کیا اور غروب آفتاب تک خیمہ میں ہی دعاؤں میں مشغول رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے نماز ظہر اور عصر سے فراغت کے بعد جبل الرحمہ کے قریب وقوف عرفہ کیا تھا، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ عرفہ کے میدان میں کسی بھی جگہ وقوف کیا جاسکتا ہے۔یہی وہ عظیم رکن ہے جس کے متعلق سارے نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج عرفات ہی ہے۔ اسی طرح فرمان رسول ﷺہے کہ عرفہ کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کثرت سے بندوں کو جہنم سے نجات دیتے ہوں، اس دن اللہ تعالیٰ (اپنے بندوں کے) بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں اور فرشتوں کے سامنے اُن (حاجیوں) کی وجہ سے فخر کرتے ہیں اور فرشتوں سے پوچھتے ہیں (ذرا بتاؤ تو) یہ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اس سے زیادہ قیمتی وقت زندگی میں کبھی نہیں مل سکتا ہے، غروب آفتاب تک اپنے لئے، اپنے بچوں، گھروالوں، دوست واحباب ومتعلقین اور امت مسلمہ کے لئے دعاؤں کا خاص اہتمام کیا۔

ٹرین سروس کی انتظامیہ کی جانب سے ہماری حج کمپنی کے حاجیوں کے لئے عرفات سے مزدلفہ روانگی کا وقت رات ۱۰ بجے دیا گیا تھا۔ مگر خیمہ سے عرفات ریلوے اسٹیشن اور پھر ٹرین حاصل کرنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ لیکن صرف ۸ منٹ میں مزدلفہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ مزدلفہ میں ہماری کمپنی کے حجاج کرام کے لئے مختص جگہ ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب میں واقع تھی۔ ۱۲ بجے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی اور کھانا کھایا۔ تھوڑی دیر کے لئے آرام کیا اور کنکریاں بھی اٹھالیں۔ ہماری حج کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ نماز فجر سے قبل منی کے لئے روانہ ہونا ہے، حالانکہ وقوف مزدلفہ حج کے واجبات میں سے ہے۔ خواتین، بوڑھے لوگ اور وہ حضرات جو خواتین یا بوڑھے لوگوں کے ساتھ ہیں، کے علاوہ حجاج کرام کو نماز فجر سے پہلے مزدلفہ سے منی جانے پر دم دیناہوگا، اس پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے، لہٰذا انتظامیہ کو ایسے فیصلے کرنے سے قبل علماء کرام سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ حجاج کرام کو بلا وجہ دم نہ دینا پڑے۔

۱۰ذی الحجہ کو صبح کو بے شمار حاجیوں کے ٹیلیفون کے ذریعہ معلوم ہوا کہ بعض حج کمپنی اور معلموں نے صبح یعنی اذان فجر سے قبل ہی یہ کہہ کر رمی (کنکریاں مارنا) کرادی کہ انہیں حکومت کی جانب سے رمی کے لئے یہی وقت ملا ہے، حالانکہ نبی اکرم ﷺ کے اقوال وافعال کی روشنی میں دنیا کے کسی بھی مکتب فکر یا عالم دین نے ۱۰ ذی الحجہ کو صبح ہونے سے قبل رمی کی اجازت نہیں دی ہے۔ انتظامیہ کی شرعی ذمہ داری ہے کہ اس نوعیت کے فیصلہ سے قبل علماء کرام سے رجوع کرے۔ ۱۰ ذی الحجہ کو صبح ہونے سے قبل رمی کرنے پر دوبارہ صبح ہونے کے بعد کنکریاں مارنی ہوں گی ورنہ ایک دم (یعنی حددو حرم میں زندگی میں ایک قربانی کرنا) لازم ہوگا۔

۱۰ذی الحجہ کو نماز ظہر اپنے خیمہ میں پڑھنے کے بعد منی ریلوے اسٹیشن ۲ سے منی ریلوے اسٹیشن ۳ پر پہنچے، جہاں سے جمرات تک پہنچنے کے لئے تقریباً ایک کیلومیٹر دھوپ میں چلنا پڑا۔ اس موقع پر بعض بوڑھے مرد وعورت کو بے حال دیکھ کر قلق بھی ہوا مگر انتظامیہ کی جانب سے فوری مدد کرنے پر اطمینان بھی ہوا۔ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لئے انتظامیہ کے افراد کا حجاج کرام پر پانی ڈالنا اور گتہ سے ہوا کرنا یقیناًاللہ تعالیٰ کے مہمانوں کی عظیم خدمت ہے، جس کا بدلہ صرف اللہ کی ذات ہی دے سکتی ہے، ہم تو صرف دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دونوں جہاں میں اجر عطا فرما۔ منی ریلوے اسٹیشن ۳ سے جمرات کے راستہ پر گرمی سے بچاؤ کے لئے اگر ٹینٹ لگادئے جائیں تو اس سے اللہ کے مہمانوں کو بہت سہولت ملے گی، اور اگر راستہ کے دونوں طرف ٹینٹ کے نیچے جمرات کے پل کی طرح پنکھے بھی لگادئے جائیں تو نورٌ علی نورٌ۔آج کے دن پہلے اور دوسرے جمرہ پر کنکریاں نہیں ماریں۔ صرف آخری جمرہ پر سات دفعہ میں سات کنکریاں بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ماریں اور حج کا ترانہ یعنی لبیک پڑھنا بند کردیا۔ اور اس کے بعد خیمہ جانے کے لئے منی ریلوے اسٹیشن ۳ تک پہنچنے کے لئے وہی دھوپ والا راستہ اختیار کرنا پڑا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس راستہ پر بھی گرمی سے بچاؤ کے لئے ٹینٹ لگ جاتے تاکہ حجاج کرام کو پچاس فیصد گرمی سے راحت مل جاتی۔ ٹرین کے ذریعہ عصر تک اپنے خیمہ میں واپس پہنچ گئے۔ قربانی وحلق سے فراغت کے بعد غسل کیا اور عام لباس پہن لیا۔ اب ہمارے لئے احرام کی تمام پابندیاں ختم ہوگئیں سوائے میاں بیوی والے تعلقات کے، جس کی پابندی ہٹنے کے لئے طواف زیارت (حج کا طواف) کرنا شرط ہے۔ تمام نمازوں کی وقت پر ادائیگی، تلاوت قرآن، ذکر الہٰی اور تکبیر تشریق پڑھنے کے ساتھ حجاج کرام کے سوالات کا جواب دینے کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ بڑی خوش نصیبی اور سعادت کی بات ہے کہ ہزاروں حجاج کرام نے حج کے ایام میں ٹیلیفون کرکے مسائل حج معلوم کئے۔ اللہ تعالیٰ تمام حجاج کرام کے حج کو مقبول ومبرور بنائے۔قربانی، حلق یا قصر اور طواف زیارت ۱۲ ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک دن رات میں کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔

۱۱ذی الحجہ کو نماز عصر سے فراغت کے بعد ۱۰ ذی الحجہ کی طرح جمرات پر گئے اور تینوں جمرات پر سات سات کنکریاں ماریں۔ پہلے اور دوسرے جمرہ پر کنکریاں مارنے کے بعد اپنے نبی کی اقتداء میں قبلہ رخ ہاتھ اٹھاکر خوب دعائیں بھی کیں۔ آخری جمرہ پر کنکریاں مارکر مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کیا۔ حجاج کرام کو منی سے مکہ مکرمہ جانے کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ ۲۰۱۰ء میں شروع ہوئی ٹرین سروس بھی ابھی تک مکہ مکرمہ (مسجد حرام) نہیں پہنچ سکی ہے۔ حالانکہ مکہ میٹرو کی تعمیر کے بعد اسے منی ریلوے اسٹیشن ۳ سے جوڑنا تھا، مگر بعض وجوہات کی وجہ سے مکہ میٹرو کے پروجیکٹ پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ اگر ٹرین سروس کے ذریعہ مقامات مقدسہ کو مسجد حرام سے جوڑ دیا جائے تو یہ حجاج کرام پر احسان عظیم ہوگا۔ یہ یقیناًایک دشوار کن مرحلہ ہے، لیکن ضیوف الرحمن کی خدمت کے جذبہ سے اٹھے ہوئے قدم پر اللہ تعالیٰ کی ضرور مدد آئے گی ان شاء اللہ اور مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجائے گا۔

فی الحال حاجیوں کے لئے منی سے مسجد حرام جانے کے لئے دو ہی آپشن ہیں، ایک پیدل چل کر جائیں جو ۴ یا ۵ کیلومیٹر ہونے کی وجہ سے آسان نہیں ہے۔ دوسرا کرائے کی بس یا ٹیکسی سے جایا جائے جس کے لئے کم از کم ۴۰ ریال فی شخص ادا کرنے ہوتے ہیں، نیز ایک تہائی راستہ پھر بھی پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ہم نے یہ یقین کرکے (کہ مکہ مکرمہ سے پیدل چل کر حج کرنے کی خاص فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، بعض صحابۂ کرام مکہ مکرمہ سے پیدل حج کرنے کا اہتمام کرتے تھے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں پیدل چل کر حج کرنے والوں کاذکر پہلے اور سواری پر سوار ہوکر حج کرنے والوں کا ذکر بعد میں کیا ہے) منی سے مکہ مکرمہ پیدل جانے کا ارادہ کرلیا، مگر آدھے راستہ کے بعد یقین ہوگیا کہ خواتین اور بوڑھے لوگوں کے لئے پیدل چل کر مسجد حرام جانا آسان نہیں ہے۔ مسجد حرام پہنچ کر نماز مغرب سے فراغت کے بعد طواف زیارت (حج کا طواف) کیا۔امسال حاجیوں کی تعداد گزشتہ سالوں کے مقابلہ میں کافی کم تھی ۔ امسال بیرون ممالک سے ۱۳ لاکھ، جبکہ سعودی عرب سے ۵ لاکھ حاجیوں نے فریضہ حج کی ادائیگی کی۔ اس سے قبل یہ تعداد پچیس لاکھ سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ اس لئے بہت سہولت کے ساتھ طواف زیارت کرلیا ورنہ طواف زیارت کی ادائیگی ایک مشکل کن مرحلہ ہوتا ہے۔ حج افراد میں ایک سعی کرنی ہوتی ہے، جو ہم طواف قدوم کے ساتھ کرچکے تھے، البتہ طواف افاضہ (حج کا طواف) کرنا تھا،جو وقوف عرفہ کے بعد حج کا سب سے اہم رکن ہے۔ اصولی طور پر طواف وداع آخری عمل ہونا چاہئے، لیکن ہمارے ہمراہ خواتین کی طبیعت کافی ناساز ہورہی تھی، اس لئے رخصت پر عمل کرتے ہوئے طواف زیارت کے بعد طواف وداع بھی کرلیا۔ طواف فرض ہو یاواجب، سنت ہو یا نفل، اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے جائیں، ہر چکر کی ابتدا حجر اسود کے استلام سے اور آخر میں مقام ابراہیم کے پیچھے ورنہ مسجد حرام میں کسی بھی جگہ دو رکعت ادا کرلی جائیں۔

طواف سے فراغت کے بعد ٹیکسی کے ذریعہ منی کے لئے روانہ ہوئے، لیکن ٹیکسی کو منی میں نہ جانے دینے کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ کیلومیٹر پیدل چل کر رات ۱۱ بجے خیمہ میں پہنچے۔ حجاج کرام کو ایام تشریق کی رات کا اکثر حصہ منی میں گزارنا سنت ہے ،لیکن اگر کوئی کوتا ہی ہوجائے تو اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوتا۔ خیمہ پہنچ کر تھوڑا کھانا کھایا مگر تھکان اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ پورا جسم درد کررہا تھا ،جس کی وجہ سے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔ نماز تہجد، نماز فجر اور نماز اشراق سے فراغت کے بعد آرام کیا۔

۱۲ذی الحجہ کو نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد ٹرین کے ذریعہ جمرات گئے اور۱۱ ذی الحجہ کی طرح تینوں جمرات پر کنکریاں ماریں۔ اس طرح مجموعی طور پر ۴۹ کنکریاں ماردیں، جو ہر حاجی کے لئے ضروری ہیں۔ جمہور علماء کی رائے کے مطابق ۱۱ اور ۱۲ ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے بعد ہی کنکریاں ماری جاسکتی ہیں۔ ۱۳ ذی الحجہ کی کنکریاں مارنا اختیاری ہیں، یعنی اگر آپ ۱۲ ذی الحجہ کو رمی کے بعد مکہ مکرمہ چلے گئے تو پھر ۱۳ ذی الحجہ کی کنکریاں مارنا ضروری نہیں ہیں، لیکن اگر ۱۳ ذی الحجہ کی کنکریاں مارکر ہی منی سے روانگی کا ارادہ ہے تو پھر ۱۲ ذی الحجہ کے بعد آنے والے رات کو منی میں قیام کرکے ۱۳ ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے بعد رمی کریں۔

رمی سے فراغت کے بعد ٹرین کے ذریعہ واپس اپنے خیمہ میں آئے۔ دوپہر کے کھانے اور نماز عصر سے فراغت کے بعد تقریباً ایک کیلومیٹر پیدل چل کر مسجد عائشہ کے قریب اپنے رشتہ دار کے گھر کے لئے دو سو ریال میں ٹیکسی کی، وہاں مغرب اور عشاء کے درمیان آرام کرکے ایرکنڈیشن بس کے ذریعہ ۱۲ گھنٹہ میں ریاض واپسی ہوئی۔ واپسی پر بس یہی دعا زبان پر تھی کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حج کو حج مبرور بنائے، جس کا بدلہ صرف اور صرف جنت ہے۔ اور ہمارے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو اس طرح معاف کردے جیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز پاک وصاف تھا، جیساکہ ہمارے نبی ﷺنے فرمایا: جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی بیہودہ بات یا گناہ نہیں کیا تو وہ (پاک ہوکر) ایسا لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز (پاک تھا)۔ نیز یہ دعا بھی کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ اس پاک سرزمین میں بار بار آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ حجاج کرام سے درخواست ہے کہ وطن واپسی کے بعد حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی سے اپنے آپ کو بچائیں۔ احکام الہٰی کو نبی اکرم ﷺ کے طریقہ کے مطابق بجا لاکر گناہوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتے رہیں۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)