بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

لوگوں میں حج کا اعلان کردو کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں: قرآن کریم

بیت اللہ کی تعمیر کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا: لوگوں میں حج کا اعلان کردو کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں، اور دور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی اُن اونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے )دبلی ہوگئی ہوں۔ (سورۃ الحج ۲۷) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اے میرے رب! میں کیسے یہ پیغام لوگوں تک پہنچاؤں؟ آپ سے کہا گیا کہ آپ ہمارے حکم کے مطابق آواز لگائیں، پیغام کو پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آواز لگائی، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے یہ آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچائی حتی کہ قیامت تک جس شخص کے مقدر میں بھی حج بیت اللہ لکھا ہوا تھا، اس نے اس آواز کو سن کر لبیک کہا۔ (تفسیر بن کثیر) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیدل چل کر حج کرنے والے شخص کا ذکر پہلے اور سواری پر سوار ہونے والے شخص کا ذکر بعد میں کیا ہے۔ اس وجہ سے علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ پیدل چل کر حج کی ادائیگی کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے۔ البتہ دوسری جماعت کی رائے ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنا پہلا اور آخری حج اونٹنی پر سوار ہوکر کیا تھا، لہٰذا سواری پر حج کی ادائیگی زیادہ افضل ہے۔ (تفسیر بن کثیر) صحیح بخاری کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ تحریر کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما پیدل چل کر حج کرنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے کیونکہ قرآن کریم میں پیدل چل کر حج کرنے کا ذکر سواری پر سوار ہوکر حج کرنے سے قبل کیا گیا ہے۔ فتح الباری ۔باب وجوب الحج وفضلہ

متعدد صحابۂ کرام سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو مکہ مکرمہ سے حج کے لئے پیدل چل کر جائے اور مکہ مکرمہ لوٹنے تک پیدل ہی چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے عوض سات سو نیکیاں لکھتا ہے۔ اور ان میں ہر نیکی حرم میں کی گئی نیکیوں کی طرح ہے۔ ان سے پوچھا گیا: حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ’’ان میں سے ہر نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔ ‘‘ (المستدرک ۔ باب فضیلۃ الحج ماشیا، اخبار مکۃ للفاکہی ۔ ذکر المشی فی الحج وفضلہ، المعجم الکبیر للطبرانی، صحیح ابن خزیمہ، مسند حاکم) مذکورہ بالا حدیث کی سند پر بعض محدثین نے کلام کیا ہے، جبکہ دیگر محدثین نے یہ حدیث کتب حدیث میں مختلف طرق سے وارد ہونے کی وجہ سے فضائل کے حق میں تسلیم کی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عبد اللہ بن عمر اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے کہ وہ مکہ مکرمہ سے حج پیدل چل کر کیا کرتے تھے۔ جو شخص اس فضلیت کو حاصل کرسکتا ہے ، اسے ضرور حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جیسا کہ امام حرم شیخ عبد الرحمن سدیس نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا تھا، جو alminbar.net پر موجود ہے، (خطبہ نمبر ۱۰۱۰ )۔

اس موقعہ پر میرا اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ٹرین اور بس وغیرہ کی سہولیات کے باجود حجاج کرام کو حج کے سفر میں کافی پیدل چلنا پڑتا ہے، اور حجاج کرام پیدل چلنے کی وجہ سے کافی تھکان بھی محسوس کرتے ہیں۔ اگر یہ فضیلت حجاج کرام کو معلوم ہوگی تو ان شاء اللہ یہ حدیث ان کے لئے اکسیر کا کام کرے گی، اور ان کو اس سے ہمت ملے گی۔ اللہ تعالیٰ عازمین حج کے سفر کو آسان بنائے۔ آمین۔

محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.com)