بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

جامعہ میں آر ایس ایس کے اندریش کُمار کا گوشت سے متعلق جھوٹا بیان

حدیث کی ہر کتاب میں موجود ہے کہ پیغمبر اسلام اور صحابۂ کرام گوشت گھاتے تھے اور قرآن کریم میں حلال جانور کے گوشت کھانے کو جائز قرار دیا گیا ہے

جامعہ ملیہ اسلامیہ ، جس کی بنیاد مہاتما گاندھی کی مکمل حمایت کے ساتھ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کی سرپرستی میں ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مفتی کفایت اللہ، مولانا عبد الباری فرنگی محلی، مولانا سلیمان ندوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا حسین احمد مدنی، چودھری خلیق الزمان، نواب محمد اسماعیل خان، تصدق حسین خان، ڈاکٹر محمد اقبال، مولانا ثناء اللہ خان امرتسری، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر سید محمود، سیٹھ عبداللہ ہارون، عباس طیب جی، سیٹھ میاں محمد حاجی جان اور مولوی عبد الحق جیسی ہستیوں نے 1920 میں رکھی تھی۔ جسے مولانا محمد علی جوہر، عبدالمجید خواجہ اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی شخصیتوں نے پروان چڑھایا تھا۔ اس ادارہ کی دیگر خصوصیات میں سے ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ یہ واحد ادارہ ہے جس کے بانیان اور معماران کی فہرست میں بڑی تعداد اُن جانباز اور غیور شخصیات کی ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ ایک خالص سیکولر ادارہ ہے جس کا مقصد ملک وقوم کی خدمت کرنا ہے، اس کے برعکس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کی بنیاد خالص ہندو مذہب کی تحریک پر رکھی گئی ہے، جس کا پہلا اور بنیادی مقصد ہندوستان کے سیکوکر کردار کو ختم کرکے ہندو راشٹر بناناہے۔ گنگا جمنی تہذیب کے خلاف وجود میں آنے والی اس تنظیم پر برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد ہندوستان کی حکومت نے تین بار پابندی لگائی ہے۔ہندوستان میں دنگے فسادات برپا کرنے میں اس تنظیم کا نام سرفہرست ہے۔ اس تنظیم کے ایک رکن ناتھورام ونائک گوڈسے نے ہندوستان کے عظیم لیڈر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سرپرست مہاتما گاندھی کو 1948 میں قتل کیا تھا۔ اس تنظیم کو تحقیقی کمیشن کی جانب سے مختلف فرقہ وارانہ فسادات میں سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھنے والی اس تنظیم کی سرپرستی میں چلنے والی تنظیم ’’مسلم راشٹریہ منچ‘‘ کی جانب سے مہاتما گاندھی، شیخ الہند، مولانا محمد علی جوہر اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے مجاہد آزادی کے ادارہ میں چند ایام قبل افطار پارٹی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کسی سیکولر ذہن رکھنے والے شخص یا مشہور تعلیمی شخصیت یا افطار کی مناسبت پر پندونصائح کے لیے کسی عالم دین کو مدعو کرنے کے بجائے آر ایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمار کو دعوت دے کر جامعہ کے سیکولر کردار کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ 2002 میں آر ایس ایس کے سربراہ (کے. ایس. سدھرشن) کے حکم پر وجود میں آنے والی اس تنظیم سے یہی امید تھی، لیکن جامعہ کے وائس چانسلر جناب طلعت احمد اس کے لیے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے سیکولر ادارہ ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘ کی سرزمین کو گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والی تنظیم کو افطار کے لیے جگہ کیوں دی؟ چند نام ونہاد مسلمان بھی اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس افطار میں نظر آئے۔ جیور (بلند شہر) میں چار مسلم خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ بلقیس بانو کئی سال سے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے مگر غالباً مسلمان ہونے کے وجہ سے اس کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ چند روز قبل لکھنؤ چنڈی گڑھ ٹرین میں بجنور کے قریب ہوئے ایک روزہ دار مسلم خاتون کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعہ نے تو انسانیت کو ہی شرمسار کرڈالا، لیکن آر ایس ایس کی سرپرستی میں چلنے والی اس تنظیم نے ان دردناک واقعات کے بعد مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کی اپیل کرنا تو درکنار، اس تنظیم کے ذمہ داروں نے اِن مظلوموں کی حمایت میں ایک جملہ بھی نہیں بولا۔ اکابرین کی اس علمی درسگاہ کی حفاظت کرنے والے طلبہ وطالبات ودیگر بہی خواہانِ جامعہ نے اس موقع پر احتجاج کرکے اپنا اعتراض درج کروایا۔ طلبہ وطالبات نے گرمی میں روزہ کی حالت میں پولس کے ڈنڈے کھانے گوارہ کیے مگر اپنی حد تک ناراضگی کا اظہار ضرور کیا، اُنہی مظاہروں کا نتیجہ تھا کہ وائس چانسلر صاحب نے افطار پارٹی میں شرکت نہیں کی حالانکہ انہیں مہمان کی حیثیت سے اس افطار پارٹی میں شریک ہونا تھا۔

اس افطار کے موقع پر بات کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمار نے گوشت کو بیماری بتاتے ہوئے جھوٹا دعویٰ کیا کہ پیغمبر اسلام حضور اکرم ﷺ اور اُن کے اہل خانہ گوشت نہیں کھاتے تھے۔ یہ نہ صرف جھوٹ کا پلندہ ہے، بلکہ سارے انسانوں میں سب سے افضل اور تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد ﷺ کے متعلق غلط بیانی بھی ہے۔ ظاہر ہے جس نے اپنے مذہب کی کتاب کو بھی مکمل طور پر نہ پڑھا ہو، وہ قرآن وحدیث کے متعلق کیسے صحیح جانکاری دے سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اُس نے کبھی قرآن کریم یا حدیث کی کسی کتاب کو چھوا بھی نہیں ہو کہ کہیں اسے ہدایت نہ مل جائے اور ہندو مذہب کے ماننے والے لوگ اس سے اپنا رشتہ توڑ دیں۔ اِس وقت نہ وہ میرا مخاطب ہے اور نہ ہی مجھے اس سے مخاطب ہونے میں کوئی فائدہ نظر آرہا ہے۔ لیکن جو بات اُس نے کہی ہے، ضرورت محسوس کی کہ عام مسلمانوں کو بتایا جائے کہ حضور اکرم ﷺ خود بھی گوشت نوش فرماتے تھے ، آپﷺ کے گھر میں گوشت بھی پکتا تھا، صحابۂ کرام کے درمیان یہ مرغوب غذا تھی، اور مسلمانوں کو شرعی اعتبار سے یہ اجازت ہے کہ وہ سبزیوں اور دالوں کے ساتھ حلال جانور کا گوشت بھی کھائیں۔ نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی گوشت کھاتے ہیں۔ دنیا منجملہ ہندوستان کے تمام مشہور ومعروف ہوٹلوں میں دوپہر اور شام کے کھانے میں دیگر اشیاء کے ساتھ بیف، مٹن اور چکن بھی پیش کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ بے شمار حضرات بھی گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ کباب کی دکان پر غیر مسلم حضرات بھی گرم گرم کباب کھاکر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ غرضیکہ عالمی پیمانہ پر پروٹین سے آراستہ گوشت انسانوں کی غذا کا بڑا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں گائے (سورۃ البقرہ) کے نام سے سب سے بڑی سورت نازل فرمائی جس کی کل قیامت تک تلاوت ہوتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں 9 جگہ گائے کا اور10 جگہ بچھڑے کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآ ن کریم (سورہ ہود آیت نمبر 69 اور 70) میں ہے کہ جب دو فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس ان کو یہ خوشخبری دینے کے لئے آئے کہ ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہو گا (یعنی حضرت اسحاق علیہ السلام) تو مہمان نوازی کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھنے ہوئے بچھڑے کا گوشت ان کے سامنے پیش فرمایا۔ سورہ الذاریات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام آیت نمبر 144میں وضاحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کہ گائے اور بچھڑے دونوں حلال ہیں۔ حدیث کی سب سے مستند کتاب صحیح بخاری میں ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ قربانی کے دن ہمارے یہاں گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا کہ یہ کیسا ہے؟ (لانے والے نے) کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے اپنی ازواج (بیویوں) کی طرف سے قربانی کی ہے۔ اس حدیث میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی اور ان کو کھانے کے لئے گائے کا گوشت بھیجا۔ حدیث کی دوسری مستند کتاب صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں گائے کا گوشت لایا گیا تو آپﷺ سے یہ کہا گیا کہ یہ گوشت حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں دیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ان کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔لہذا تم سب کھاؤ۔ خود حضور اکرم ﷺ نے بھی گائے کا گوشت کھایا ہے جیساکہ بخاری ومسلم میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مقام صرار پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔ وہ ذبح کی گئی اور سب لوگوں نے اس کے گوشت میں سے کھایا۔ اسی طرح مسلم میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہوئے چل دئے، تو حضور اکرمﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ اونٹ اور گائے کی قربانی میں باہم شریک ہوجائیں، سات سات آدمی ایک اونٹ یا ایک گائے کی مل کر قربانی کریں۔

اللہ تعالیٰ نے گائے کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام آیت نمبر 144 میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے۔ نیز ساری انسانیت میں سب سے افضل حضور اکرمﷺ سے گائے کا گوشت کھانے کا ثبوت احادیث نبویہ میں موجود ہے۔نیز قرآن وحدیث کی روشنی میں 1400 سال سے امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر حلال جانور کے گوشت کے حلال ہونے پر متفق ہیں، تو کسی کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی طرف ایسی بات منسوب کرے کہ جس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ حدیث کی سب سے مستند دونوں کتابیں (بخاری ومسلم) میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ آپ ﷺ گوشت نوش فرماتے تھے، چند احادیث مبارکہ ذکر بھی کی گئیں۔ اس کے علاوہ حدیث کی مشہور مستند کتاب (ترمذی) میں حضور اکرم ﷺ کی روز مرہ کی زندگی کے ایام کو (شمائل ترمذی) کے نام سے قلمبند کیا گیا ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ کے گوشت کھانے کے متعلق متعدد واقعات بھی مذکور ہیں۔ آپ ﷺ کی بیوی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے پہلو کا بھنا ہوا گوشت حضوراکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ بھنا ہوا گوشت مسجد میں کھایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں کہیں سے گوشت آیا۔ اُس میں سے دست حضوراکرم ﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ حضور اکرم ﷺ کو دست کا گوشت پسند بھی تھا۔آپ ﷺ نے اسے دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا۔ اسی طرح آپ ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دست کا گوشت کچھ لذت کی وجہ سے حضور اکرمﷺ کو زیادہ پسند تھا۔

غرضیکہ قرآن کریم میں بھی حلال جانور کے گوشت کو حلال قرار دیا گیا ہے اور حدیث کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں حضور اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام کے گوشت کھانے کے واقعات مذکور نہ ہوں۔ اسی وجہ سے پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ حلال طریقہ سے ذبح ہونے کے بعد حلال جانور کا گوشت کھایا جاسکتا ہے۔ نیز طبی اعتبار سے گوشت انسان کی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔ ایک غریب مزدور آدمی گوشت کی چند بوٹیاں کھاکر اپنے جسم کے لیے پروٹین کا ایسا ضروری ذخیرہ حاصل کرلیتاہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے اسے کافی رقم خرچ کرنی ہوتی۔ ظاہر ہے کہ آر ایس ایس کے کسی نمائندہ کی جانب سے کوئی خیر کی امید رکھنا ہماری بے علقمندی نہیں ہے، اُن کا تو یہ مشن ہے کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے لیے انہوں نے ہمارے اکابرین کی محنت سے وجود میں آنے والے ادارہ کی سرزمین کو استعمال کیا۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی (www.najeebqasmi.c